انشاء سا کوئی رمتا دیکھا؟ «
Ibneriaz Website Banner

  • ہم وی آئی پی ہیں || مہنگائی کے دن گنے جا چکے ہیں || بیمار کاحال اچھا ہے || روزمرہ مشورے || بھینس || ایک دعا || سوئی میں اونٹ کیسے ڈالاجائے || پاکستان کی حکومت اور کرکٹ ٹیم || ہونا ہے تمہیں خاک یہ سب خاک سمجھنا ||
  • انشاء سا کوئی رمتا دیکھا؟

    تحریر: ابنِ ریاض

    ابنِ انشاء کا شمار ہماری پسندیدہ ترین شخصیات میں ابتدائی نمبروں پر ہوتا ہے اور ہمیں ان کے متعلق کافی معلومات بھی ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ ہم نے انھیں سب سے زیادہ پڑھا ہے اور ان کے متعلق بھی سب سے زیادہ پڑھا ہے۔ تاہم ان کے متعلق ہم اب تک صرف اک تحریر لکھ پائے ہیں جبکہ دیگر پسندیدہ شخصیات وحید مراد، وقار یونس اور مظہر کلیم ایم اے پر دو دو تحاریر ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ   مظہر  کلیم کا انتقال  چند سال قبل ہوا ہے  جبکہ وحید مراد کا انتقال انشاء  جی کی چھٹی برسی سے قبل ہو چکا تھا لیکن وحید مراد کو ہم نے مختلف ویڈیو  میں دیکھا ہے ۔ وقار یونس کا تو سارا کیریئر  ہی ہمای آنکھوں کے سامنے رہا ۔ ابن انشاء سے ہمارا تعلق غائبانہ ہے۔ انھیں ہم چند تصاویر اور ان کی تحاریر کی وجہ سے جانتے ہیں۔ ابن ِ انشاء پر لکھنے کی کوشش کریں تو ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ کیا لکھیں ۔ تاہم ان کا حق بنتا ہے کہ ابنِ ریاض کی ان پر ایک سے زیادہ تحاریر ہوں تو ہم مزید لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ابنِ انشاء نے پچاس سال میں اتنا کام کیا ہے کہ لوگ شاید کئی زندگیوں میں اتنا کام نہ کر سکیں۔ وہ ادب کی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ نثر، شاعری، سفرنامے، تراجم غرض ہر صنف مین انھوں نے قلم آزمائی کی اور اپنے جداگانہ انداز و اسلوب سے انمٹ نقوش چھوڑے۔

    حضرت نے مشیخت کی اک طرح نکالی ہے
    اگر ان کی شاعری کی بات کریں تو وہ ان کی ذاتی وارداتِ قلبی کا بیان ہے۔ ان کی  زیادہ تر بحریں ناصر کاظمی کے برعکس  لمبی لمبی ہیں تاہم ان میں بلا کی روانی ہے۔

    یہ باتیں چھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

    انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو، اس  شہر میں جی کو لگانا کیا

    دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے، آن ملو تو بہتر ہو

    اس کی مثالیں ہیں۔ علاوہ ازیں شاعری میں انھوں نے  غزل کے علاوہ نظم میں بھی بہت کام کیا ہے ۔ اپنے دوست کا مرثیہ بھی لکھا اور شاہ عبدالطیف کے کلام کے منظوم تراجم تو ہماری نصاب  کی کتب میں بھی شامل تھے۔ تاہم ان کی شاعری میں حیرت  انگیز صلاحیت ان کا ہندی الفاظ کا ایسے استعمال ہے کہ جس سے شعر کی منعویت اور روانی متاثر نہیں ہوتی۔ تحریر کے عنوان میں رمتا کا لفظ دیکھیں ۔ اپنی مشہور نظم جلے تو جلاؤ گوری میں وہ لکھتے ہیں

    پیت میں بجوگ بھی ہے، کامنا کا سوگ بھی ہے

    پیت برا روگ بھی ہے، لگے تو لگاؑؤ نا

    بجوگ و کامنا کے الفاظ کا استعمال دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ انشاء کی شاعری میں جوگی کا بہت تذکرہ ملتا ہے اور اپنی وحشت و بے چینی کے اظہار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

    ابن انشاء شاعری میں میر کو اپنا روحانی استانی مانتے ہیں اور جا بجا ان سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اک جگہ کہتے ہیں

    سیدھے من کو آن دبوچیں، میٹھیں باتیں، سندر بول

    میر،نظیر، کبیر اور انشاء سارا اک گھرانہ ہُو

    اک اور جگہ فرماتے ہیں

    اک بات کہیں گے انشاء جی، تمھیں ریختہ کہتے عمر ہوئی

    تم اک جہاں کا علم پڑھے کوئی میر سا شعر کہا تم نے

     تاہم اگر انشاء جی کی شاعری پر غور کریں تو انشاء جی کا انداز ذاتی و جداگانہ ہے۔ وہ میر سے متاثر ضروری ہوئے مگر انھوں نے شعوری طور پر ان کی نقل نہیں کی۔ میر کی شاعری جہاں تک ہمیں معلوم ہے چھوٹی بحر میں ہے اور ہندی الفاظ کا استعمال متروک ہے۔

     میر  نے نظمیں کہی ہیں یا نہیں ۔ اس کا ہمیں علم نہیں ۔ ہم تو انھیں غزلوں سے جانتے ہیں ۔تاہم ابن انشاء نے بہت خوبصورت نظمیں لکھی ہیں۔ اوپر اک نظم کا ذکر کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ‘سب مایا ہے’، ‘اک بار کہو تم میری ہو’، ‘کل ہم نے اک سپنا دیکھا ہے’، ‘اک لڑکا، ‘بغدار کی ایک رات’ اور ‘اب عمر کی نقدی ختم ہوئی’ جیسی مشہور و معروف نظمیں شامل ہیں۔

    شاعری ان کی انتہائی سنجیدہ اور دکھی کر دینے والی ہے تو نثر انتہائی باغ و بہار۔ شگفتگی کا اک سیلِ رواں ہے جو قاری کو اپنی گرفت مین لے لیتا ہے اور بے ساختہ تبسم اس  کے لبوں پر چھا جاتا ہے۔ قاری اس سحر سے باہر تب نکلتا ہے جب تحریر ختم ہو جاتی ہے۔  مزاح  اور طنز کا چولی دامن کا ساتھ ہے مگر ابن انشاء طنز بھی اس خوبصورتی سےکرتے ہیں کہ ہیرے کا جگر پھول کی پتی سے کاٹ دیتے ہیں ۔پروین شاکر ابنِ انشاء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ انشاء جی نے  پاکستانی قوم کی  حسِ مزاح کی تہذیب کی ۔ جبکہ یوسفی صاحب کا فرمانا ہے کہ  سانپ کا ڈسا پانی نہیں مانگتا  لیکن  ابنِ انشاء کا ڈسا سوتے میں بھی مسکراتا ہے۔

    اکبر کے نو رتنوں کا ذکر کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ پڑھ لکھ کر نو رتن بننا پسند کریں گے یا ان پڑھ رہ کر اکبر ؟ اورنگ زیب عالمگیر کے متعلق  لکھتے ہیں کہ دین و دنیا دونوں پر نظر رکھتا تھا۔ چنانچہ اس نے کوئی نماز قضا نہیں کی اور کوئی بھائی زندہ نہیں چھوڑا۔

    اک جگہ خضر و سکندر کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو کہا خضر نے سکندر سے وہی کیا خضر حیات نے سکندر حیات سے۔

    اپنی زندگی کی آخری کالموں میں سے اک ‘ بیمار کا حال اچھا ہے’ پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حقیقی مزاح نگار تھے جو موت کو آنکھون کے سامنے کھڑے دیکھ کر بھی مسکرا رہے تھے اور مزاح لکھ رہے تھے۔

     ابن انشاء معاشرے کے ایسے طبیب ہیں جو نشتر چلاتے ہیں تو قاری چیخنے چلانے کی بجائے کھلکھلا کر ہنسنے لگتا ہے۔   ان کے کالم اتنے مقبول تھے کہ جاوید چودھری کے بقول پڑھے لکھے لوگ اک دوسرے کو فون کر کے پوچھتے تھے کہ کیا آج ابنِ انشاء کا کالم پڑھا ہے؟

    زوالفقار تابش نے ان کی وفات پر انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہ عجیب شخص تھا۔  ہنسنے اور رونے کی دونوں توفیقیں اسے حاصل تھیں۔روتا تھا تو سب کو رلاتا تھا(شاعری میں)۔ ہنستا تھا تو سب کو ہنساتا تھا(نثر و مزاح)۔ دونوں کیفیات پر عبور تھا۔ ہم تو نہ ٹھیک سے ہنس سکتے ہیں نہ ہی رونا ہمیں آتا ہے۔

    ابنِ انشاء نیشنل بک فاؤنڈیشن کے صدر تھے اور نونیسکو کے کتب سے متعلق ادارے کے ایشیاء کے سب سے اہم نمائندے۔ اس حیثیت میں انھوں نے پوری دنیا کی سیر کی اور اپنے سفروں کا احوال سفرناموں کی صورت کیا۔ انشاء جی کے سفر اک عام پاکستانی کے سفر ہیں۔ جسے دیارِ غیر میں ہوٹلوں، زبان اور زادِ سفر کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ اس پر ان کا شگفتہ انداز بیاں اور بھاری بھرکم معلومات سے گریز قاری کے لئے دلچسپ اور سادہ بنا دیتا ہے۔ چنانچہ ان کا سفرنامے ملکوں اور علاقوں کے تاریخی مقامات کی معلومات بہت کم یا ندارد ہونے کے باوجود بھی انتہائی مقبول ہیں۔

    غالب کے بعد  اگر کسی کے خطوط  پڑھنے کے قابل ہیں تو وہ انشاء جی کے اپنے د وستوں کو لکھے گئے بے تکلف خطوط ہیں۔ اۓ حمید کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ حمید اختر جیل سے رہا ہو گیا۔ اسے وہاں کیا تکلیف تھی ؟ پھر اے حمید کو اک خط  میں ان کی خوبیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے  لکھتے ہیں۔ ‘کمینے اگر تو لڑکی ہوتا تو  میں فوراً تجھ سے شادی کر لیتا’۔قدرت اللہ شہاب کو خط میں ممتاز  مفتی  کے متعلق لکھتے ہیں ‘ مفتی سے ہر معاملے میں مشورہ لیجیے اور جو وہ کہے اس کے برعکس کیجیے۔ ان شاء اللہ صراط مستقیم سے کبھی نہیں بھٹکیں گے’۔

    بات یہیں ختم نہیں ہوتی تراجم اور بچوں کے لئے ‘بلو کا بستہ’ نامی کتاب اس کے علاوہ ہیں۔ غرض اردو ادب کا تذکرہ ابن انشاء کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ بلکہ

    جدھر دیکھتا ہوں ادھر  تُو ہی تُو ہے

    والا معاملہ ہے۔

    ابنِ انشاء عام زندگی میں بہت ہی سادہ و پرخلوص شخص تھے۔ بڑے ہونے کی وجہ سے گھر کی ذمہ داریاں ان پر تھیں جنھیں بخوبی ادا کیا۔والدہ سے بے انتہا پیار تھا اور دوستوں کے لئے بہت حساس تھے۔ بشیر احمد جب بے روزگار تھے تو ان کےدوستوں کو لکھے گئے ہر خط میں تاکید ہوتی تھی کہ بشیر کے لئے کچھ کرو۔ اشفاق احمد کا بیان کردہ وہ واقعہ تو سب جانتے ہیں جس میں انھوں نے اک انجان لڑکی کو مدد مانگنے پر اپنے پاس موجود تمام رقم دے دی تھی اور اشفاق احمد کے پوچھنے پر کہا تھا ‘دیئے میں سے ہی تو دیا ہے’۔

    ابنِ انشاء کے متعلق لکھنا شروع کیا ہے تو اب قلم کا رکنا ہی مشکل ہو گیا ہے۔مشرقی پنجاب کے دہقانی پس منظر سے  تعلق رکھنے والے  اس  رمتا   جوگی اور بنجارے نے اردو ادب کو  وہ جہتیں دیں کہ ان کا نام و کام ان کے انتقال کے قریب نصف صدی بعد بھی زندہ ہے۔  ہمارے خیال میں اس کی وجہ  ان کا  کلام   کا سچا اور سدا بہار ہونا   ہے۔ ان کی شاعری  دو نسلوں بعد  آج کے انسان  کے جذبات کی  بھی ترجمان ہے  اور ان  کی نثر     پڑھ  کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ آج  کے مسائل پر لکھ  گئے ہیں  یا شاید ہمارے مسائل آج بھی  وہی ہیں جو  پچاس ساٹھ سال پہلے تھے۔یہی ان کے سچے فنکار اور کہیں بڑے انسان ہونے کا ثبوت ہے ورنہ  وفات کے اتنے سال بعد تو لوگ اپنے گھر والوں کو بھی بھول جاتے ہیں۔

     

    ٹیگز: , , , , , , , , , , ,

    

    تبصرہ کیجیے

    
    

    © 2017 ویب سائیٹ اور اس پر موجود سب تحریروں کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔بغیر اجازت کوئی تحریر یا اقتباس کہیں بھی شائع کرنا ممنوع ہے۔
    ان تحاریر کا کسی سیاست ، مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے. یہ سب ابنِ ریاض کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں۔
    لکھاری و کالم نگار ابن ِریاض -ڈیزائن | ایم جی

    سبسکرائب کریں

    ہر نئی پوسٹ کا ای میل کے ذریعے نوٹیفیکشن موصول کریں۔