سو  بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی «
Ibneriaz Website Banner

  • ہم وی آئی پی ہیں || مہنگائی کے دن گنے جا چکے ہیں || بیمار کاحال اچھا ہے || روزمرہ مشورے || بھینس || ایک دعا || سوئی میں اونٹ کیسے ڈالاجائے || پاکستان کی حکومت اور کرکٹ ٹیم || ہونا ہے تمہیں خاک یہ سب خاک سمجھنا ||
  • سو  بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی

     تحریر :ابنِ ریاض

    بہار سے ہمارے ذہن میں سب سے پہلے تو بہار بیگم آئیں جو ہماری زمانے سے قبل کی فلمی اداکارہ تھیں تاہم پرانے گانوں ( جو پاکستان ٹیلی ویژن پر کبھی کبھار چلا کرتے تھے) میں انھیں ہم  نے  دیکھا۔ان کا ایک دوگانا ‘چل چلیے دنیا دے اس نکڑےجتھے بندا نا بندے دی ذات ہوئے’ آج بھی معروف ہے۔اس کے علاوہ بھارت کا ایک صوبہ بھی اس نام سے ہے  اور وہاں کے کافی لوگ پاکستان بننے کے بعد مشرقی پاکستان میں آباد ہو گئے تھےجنھیں شاید آج بھی بہاری کہا جاتا ہے۔ان میں اہم ترین پاک فضائیہ کے عالمی شہرت یافتہ ہوا باز   ‘ایم ایم عالم’ ہیں۔

    معلوم ہوا کہ موسمِ بہار کا تذکرہ ہے جو پاکستان میں فروری مارچ کے مہینوں میں آتا ہے اور سعودی عرب میں آتا ہی نہیں ہے۔ جب بندہ عملی زندگی میں قدم رکھ لیتا ہے تو موسموں کے اثر سے ماورا ہو جاتا ہے۔ دال روٹی اور گھر کے دھندے ہر چیز پر غالب آ جاتے ہیں۔ بقول شاعر

    تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روز گار کے

    پھر ایک اور فلسفی شاعر کا فرمانا ہے کہ اصل موسم دل کا موسم ہوتا ہے۔ اگر دل خوش و خرم ہے تو گرمی میں بھی بہار ہے اور اگر دل  اداس ہے تو بیرونی موسم بہار بھی اندر کی خزاں کو کم کرنے سے قاصر ہے۔

    بہ چھیڑ اے نگہتِ بادی بہاری،راہ لگ اپنی

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

    تا ہم بچپن کی بات کرتے ہیں جب دنیا کے ان دھندوں سے انسان آزاد ہوتا ہے اور رنگ و خوشبو اور کھلنڈرا پن اس کی زندگی ہوتا ہے ۔ ہمارا موسم بہار آج کے بچوں سے قدرے بلکہ خاصا مختلف ہوتا تھا۔ بہار کے موسم کی آمد ہمارے لئے امتحانوں کی نوید لاتی تھی۔ہم کوئی پڑھاکو بچے نہ تھے بس روز کا روز پڑھا اور پوزیشن لے لی لیکن ان دنوں گھر والے کھیلنے کے لئے نہیں نکلنے دیتے تھے کہ امتحان  سر پر ہیں تو پڑھائی کرو۔  نہ موبائل تھا نہ کمپیوٹر۔ تو فیس بک تھی اور نہ واٹس ایپ۔ کبھی ہم  نصاب سے متعلق پڑھ لیتے تھے اور کبھی کتاب میں ٹارزن اور عمرو عیار کی کہانیاں ڈال کر پڑھا کرتے تھے۔ کوئی دو ہفتے امتحانات چلتے تھے اور دو ہفتے پہلے ہمیں مایوں بٹھا دیا جاتا تھا تو سمجھیں کہ مہینہ گزر جاتا تھا۔مارچ کے وسط میں ہم یوں آزاد ہوتے تھے جیسے رمضان کے بعد شیطان۔

    پڑھائی کے دنوں میں صبح ہماری آنکھ نہیں کھلتی تھی اور جب امتحان ختم ہوتے تھے تو نیند نہیں آتی تھی۔ عجب بات تھی کہ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اٹھ بیٹھتے تھے اور جلدی جلدی ناشتہ کر کے باہر۔ باقی محلے والے ہم عصرجمع ہو جاتے اور پھر مختلف کھیلوں کا دور چلتا۔ اس زمانے میں ٹریفک کے مسائل بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ سڑک پر ہی کرکٹ، ہاکی ،فٹبال سب کھیلا جاتا۔ گاڑی پوری گلی میں ایک تھی اوروہ بھی گھنٹے بعد ہی چلا کرتی۔ بائیک سائیکل والے اور پیادہ گزرتے رہتے۔ گاڑی گزرتی تھی تو کرسی کی وکٹ ہٹا دی جاتی۔  سارا دن سڑک پر شور ہوتا۔ جو گیند کسی کے گھر پھینکتا اسی کو  گیند واپس لانی ہوتی تھی۔ ہمارے محلے میں سب ہی گیند واپس کر دیتے تھے سوائے ایک گھر کے۔ اللہ جانے کیا ماجرا تھا کہ گیندوں کو بھی اس گھر سے کچھ زیادہ ہی انسیت  تھی۔ ذرا دیر کھیل پاتے تھے کہ ان کی چھت سے ان کے گھر جا گرتی۔پھر ڈنڈوں سے ہاکی کھیلی جاتی اور کبھی فٹ بال۔ گھر ہم لوگ بعجلت کھانا کھانے ہی جاتے تھے۔  رات کوچھپن چھپائی کھلا جاتا ہے۔ غرض گھر ان دنوں بس ہمارے لئے سرائے ہی تھا جہاں ہم صرف سونے اور کھانے جاتے تھے۔

    کالج جانا شروع ہوئے تو میدان جانا شروع کر دیا۔ ایک ہمارا ہم عمر دوست تھا۔ وہ دیر سے اٹھتا تھا تو اس کو صبح ہمیں جگا  کرمیدان  لےکر جانا ہوتا تھا کیونکہ وہ ٹیم کا اہم رکن تھا۔ تاہم اس کے والد کافی سخت تھے اور بچوں کو کھیلنے پر ڈانٹ دیتے تھے( کہ یہ فضول کام ہے)۔ پھر ہم ایک چھوٹے بچے کو بھیجتے کہ انکل سے جا کر کہو کہ فیصل  بھائی کو بھیج دیں ان سے حساب پڑھنا ہے۔ یہ ترکیب کچھ دن تو چلی۔  ایک دن اس بچے نے فیصل کے والد سے درخواست کی کہوہ اپنے سپوت سے کہیں کہ اسے حساب کی ٹیوشن دے تو انکل نے فرمایا۔  بیٹا آپ میدان میں جاؤ۔ فیصل آتا ہے آپ کو پڑھانے۔

    بہار کے دن ابھی جاری ہی ہوتے تھےکہ یوم الحساب بھی آ جاتا تھا یعنی امتحانات کا نتیجہ۔ کتننے ہی طالب علموں پر عین بہار میں خزاں چھا جاتی تھی۔ انھیں البتہ نئی کتابیں نہیں خریدنی پڑتی تھیں۔ ہم تو اتفاق سے پوزیشن  لیتے تھے تو نتیجے کے دن ہماری حالت بھی اس شادی شدہ خاتون جیسی ہوتی تھی جو میکے سے سسرال  جا رہی ہو۔ہماری پریشانی یہ ہوتی تھی کہ اول پوزیشن نہ آئی تو کتنا براہو گا۔ کوئی ہم سے آگے نکل جائے گا۔ اکثرایسا ہی ہوتا۔ بہرحال کچھ دیر غم منانے کے بعد ہم اپنے سے ایک کلاس آگے طلباء کے گھر کا چکر لگاتے تا کہ آدھی قیمت پر کتب مل جائیں اور نئی نہ خریدنی پڑیں۔ دو تین لوگوں سے ہم نے کہا ہوتاتھا تاکہ جو بہتر حالت میں ہوں وہ ہم لے سکیں۔کبھی کبھی کسی طالب علم کے والدین کتابوں کے پیسے نہیں لیتے تھے تو اس کی الگ خوشی ہوتی تھی۔ جس نے بھی ہماری ایسی مدد کی، اللہ ان سب کو دنیا و آخرت کی آسانیاں عطاکرے۔ اردو اور معاشرتی علوم کی کتب اسی روز ختم کر لی جاتی تھیں البتہ انگریزی کو ہم اپنے اساتذہ کے ساتھ ہی پڑھتے تھے۔

    بہار کی ہی یاد گار ہمارے موجودہ وزیر اعظم کا عالمی کپ بھی ہے جو پاکستان نے 25 مارچ 1992ء کو عین بہار میں حاصل کیا تھا۔ اگرچہ اس وقت آسٹریلیا میں گرما چل رہا تھا۔اب وہ عالمی کپ پاکستانیوں کو سستا پڑا یا مہنگا، اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔ ویسے ہماری رائے ہے کہ ریس کے عین درمیان میں فاتح کا فیصلہ نہیں کر لینا چاہیے۔ ریس ختم ہونے کا انتظار بہتر ہے۔

    بہار پر لکھ تو دیا لیکن عجیب یوں لگ رہا کہ اس میں نہ رنگوں کا ذکر ہے اور نہ پھولوں اور تتلیوں کا اور نہ  پرندوں کی چپچہاہٹ۔ بس ان  دو ماہ کے دنوں کے حساب سے جو یاد آیا قلم بند کر دیا۔

     

    ٹیگز: , , , , , ,

    

    تبصرہ کیجیے

    
    

    © 2017 ویب سائیٹ اور اس پر موجود سب تحریروں کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔بغیر اجازت کوئی تحریر یا اقتباس کہیں بھی شائع کرنا ممنوع ہے۔
    ان تحاریر کا کسی سیاست ، مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے. یہ سب ابنِ ریاض کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں۔
    لکھاری و کالم نگار ابن ِریاض -ڈیزائن | ایم جی

    سبسکرائب کریں

    ہر نئی پوسٹ کا ای میل کے ذریعے نوٹیفیکشن موصول کریں۔