ذکر کاہلی کا «
Ibneriaz Website Banner

  • ہم وی آئی پی ہیں || مہنگائی کے دن گنے جا چکے ہیں || بیمار کاحال اچھا ہے || روزمرہ مشورے || بھینس || ایک دعا || سوئی میں اونٹ کیسے ڈالاجائے || پاکستان کی حکومت اور کرکٹ ٹیم || ہونا ہے تمہیں خاک یہ سب خاک سمجھنا ||
  • ذکر کاہلی کا

    تحریر: ابنِ انشاء

    ہمارا شمار ان لوگوں میں ہے جن کاذکر پطرس نے اپنے مضمون ’’سویرے جو کل آنکھ میری کھلی۔‘‘ میں کیا ہے۔ اگر یہ مضمون ہمارے ہوش سنبھالنے سے پہلے کا نہ ہوتا، اگر پطرس مرحوم کے نیاز بھی حاصل رہے ہوتے، تو یہی سمجھتے کہ انہوں نے یہ ہمارے بارے میں لکھا ہے۔ اٹھنا نمبر ایک اور اٹھنا نمبر دو ہمیشہ سے ہماری زندگی کا معمول رہے ہیں۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم نے پطرس کے ہیرو کی طرح سورج کو کبھی طلوع ہوتے دیکھا ہی نہیں۔ کئی بار دیکھا ہے۔ فلموں میں بڑااچھا لگتاہے۔

    جوش اور جگر دونوں بڑے شاعر ہیں۔ لیکن ہمارا ذاتی رجحان ہمیشہ جگر کی طرف رہا ہے۔ شاعر کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ ہماری ہی طرح کے تھے۔ چرند پرند اور جوش ملیح آبادی کی طرح علی الصباح نہیں اٹھ بیٹھتے تھے۔ ارے بھئی وہی تو وقت چڑیوں کے چہچہانے کا ہوتا ہے۔ جو لوگ نور کے تڑکے چھڑی لیے باغ میں جا پہنچتے ہیں، وہ ان بے زبانوں کے معمولات میں مخل ہوتے ہیں۔ جگر صاحب سے بھی ہم کبھی نہیں ملے لیکن ایک بار ان کے قلم سے یا کسی اور کے قلم سے ہم نے پڑھا ہے کہ بھوپال میں ان لوگوں نے یعنی جگر صاحب اور ان کے دوستوں نے ایک انجمن الکہلا قائم کی تھی۔ کہلا، کاہل کی جمع ہے۔ جو جتنا بڑا ضدی اور خدائی خوار ہوتا تھا، اتنا ہی اس انجمن میں یا کلب میں ذی مرتبت سمجھا جاتا تھا۔ انجمن کے دفتر میں ایک قالین بچھا تھا۔ یہ لوگ وہاں پہنچ کر کھڑے کھڑے گرپڑتے تھے۔ کیونکہ کھڑے سے بیٹھنا اور بیٹھنے کے بعد لیٹنا ایک محنت طلب امر ہے۔ ناحق کا تکلف ہے اور آداب کاہلی کے خلاف ہے۔ دن بھر یہ لوگ وہاں اپنی کاہلی کے نشے میں غین پڑے رہتے تھے۔ کبھی کبھار کوئی شخص آکر ان کے منہ میں پانی ڈال جاتا تھا۔

    سچ یہ ہے کہ کاہلی میں جو مزہ ہے وہ کاہل ہی جانتے ہیں۔ بھاگ دوڑ کرنے والے اور صبح صبح اٹھنے والے اور ورزش پسند اس مزے کو کیا جانیں۔ ہائے کم بخت تونے پی ہی نہیں۔ دیکھیے ہمارے قبیلے میں کیسا کیسا آدمی ہواہے۔ غالب بھی ’’بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے ‘‘ کے قائل تھے۔ میر صاحب یعنی میرتقی میر بھی اپنے حجرے میں قطب بنے بیٹھے رہتے تھے۔ کبھی اپنے حجرے کی کھڑکی بھی نہ کھولی۔ کیونکہ کھولنا بھی ایک طرح کاکام ہے بلکہ یہاں تک سنا ہے ادھر کبھی نظر اٹھاکر بھی نہ دیکھا تھا۔ ایک صاحب نے کہا، ’’میر صاحب یہ کھڑکی کھول لیا کیجیے۔ باہر کی ہوا آیا کرے گی۔ اور اس طرف باغ بھی ہے۔‘‘ حیران ہوکر بولے، ’’اچھا میرے کمرے میں کوئی کھڑکی بھی ہے۔‘‘

    میر اور غالب تو خیر پرانے زمانے کے آدمی تھے۔ ہمارے حکیم الامت شاعر مشرق علامہ اقبال کے متعلق بھی ہم نے کبھی نہیں پڑھا کہ چاق و چوبند آدمی تھے۔ یہی معلوم ہوا کہ تہمد باندھے چارپائی پر لیٹے رازی کے نکتہ ہائے دقیق پر غور کرتے رہتے تھے اور حقہ پیتے رہتے تھے۔ اس صبح خیز طبقے نے کوئی اتنا بڑا شاعر پیدا کیا ہو تو ہمیں اس کا نام بتائیے۔ تعارف کرائیے۔ ہمیں یاد پڑتا ہے مرزا محمد رفیع سودا نے جو دلی کے چوروں پر مثنوی لکھی ہے، اس میں صبح اٹھنے والوں کو کچھ اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا۔ ملا مسجد کا صبح خیزیا ہے۔ ایسا ہی کوئی مصرعہ ارشاد کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بھی ان کایعنی ایسی مثنوی کے ممدوحوں کا ساتھی ہے۔

    یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اہل مغرب میں سارے لوگ موجد اور سائنس داں ہی نہیں ہیں بلکہ بہت سے ہمارے قبیلے کے ہیں۔ بلکہ ایسے کہ ہمارے قبیلے کے لیے باعث نازش۔ ایک اخبار میں پڑھا کہ وہاں کاہلوں کے باقاعدہ کلب ہیں جن میں کاہل لوگ بوجہ کاہلی کبھی نہیں جاتے۔ جو شخص چلاجائے اسے مستعد جان کر اس کا نام کاٹ دیا جاتا ہے۔ ہم نے جوش ملیح آبادی صاحب کا وہ نظام اوقات پڑھا کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک یہ باغ میں ملے گا۔ اور فلاں وقت اسے مے خانہ میں تلاش کیجیے۔ اور فلاں وقت نہ جانے کہاں۔ اس کلب والوں نے جن کا نامBORN-TIRED-ASSOCIATION یعنی پیدائشی تھکے ماندوں کی انجمن ہے، مثالی زندگی کا نظام اوقات یہ مقرر کیا ہے کہ چوبیس میں سے دس گھنٹے تو سونا ہی چاہیے۔ باقی رہے چودہ گھنٹے ان میں آٹھ گھنٹے آرام کے لیے وقف رہنے چاہئیں یعنی آدمی لیٹااکڑتا رہے۔ کچھ کام نہ کرے۔

    باقی رہے چھ گھنٹے اس میں سے چار گھنٹے کھانے کے لیے وقف رہنے چاہئیں۔ کھانا اور جگالی کرنا بھی تو ایک زندگی کی عشرتوں میں سے ہے۔ نوالے زہر مار کرنا تو کھانے کی تعریف میں نہیں آتا۔ باقی رہے دوگھنٹے۔ یہ انجمن تو ان میں بھی کسی قسم کے کام کاٹنٹا پسند نہیں کرتی لیکن خیر کوئی ان میں کام کرنا چاہے تو اعتراض بھی نہیں کرتی۔ ہمارے خیال میں تو اس میں سے بھی کچھ وقت نہانے شیو کرنے اور حاجات ضروریہ اور غیر ضروریہ کی مد میں نکل جاتا ہے۔ بشرطیکہ یہ مغرب کے کاہل لوگ ان تکلفات کو ضروری سمجھیں۔

    یاد رہے کہ اس کلب کے ۳۵ ہزار ممبر ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہمیں تو انجمن سازی بھی تکلف اور کاہلی کے اصولوں کے منافی معلوم ہوتی ہے۔ فارم بھرنا، فیس دینا، دستخط کرنا وغیرہ۔ ایک بار تین کاہلوں میں مقابلہ ہوا تھا کہ ہر شخص اپنی اپنی کاہلی کا کوئی قصہ سنائے جو سب سے زیادہ کاہل ہو وہ انعام پائے۔ ایک نے اپنا قصہ بیان کیا کہ بیر کو اٹھا کر منہ میں ڈالنے کے لیے بھی کسی راہ گیر کی خدمات حاصل کیں۔ دوسرے نے اس سے زیادہ دوں کی لی۔۔۔ تیسرے کے سامنے شمع پہنچی تو بولا یارو! قصے تو کئی ایک ہیں۔ لیکن کون سنائے؟ پس انعام کاحق دار یہی تیسرا ٹھہرا۔

    ہمارے ہاں کلب کا مطلب صرف نائٹ کلب سمجھا جاتا ہے۔ یا شراب نوشی اور رقص و تفریح کا اڈہ۔ یہ بات نہیں۔ مغرب کے ملکوں میں شام کو گھر میں گھسے بیٹھے رہنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ایران اور ترکی تک میں لوگ شام اترتے ہی سیر و تفریح کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ اور شام کا چوگا بھی باہرہی کھاتے ہیں۔ جو کلبوں کے ممبر ہیں، وہ وہاں جاکر کچھ کھیلتے ہیں۔ کچھ پڑھتے ہیں۔ کچھ گپ کرتے ہیں۔ مغرب میں پینا پلانا بھی آدابِ زندگی میں داخل ہے۔ لہٰذا پی بھی لیتے ہیں اور کبھی کبھار زیادہ بھی پی لیتے ہیں۔ بعض تو اپنے پاؤں چل کر گھر پہنچ جاتے ہیں۔ بعض کو ڈنڈا ڈولی کر کے لانا پڑتا ہے۔

    آپ میں سے بہت سوں نے رابرٹ لوئی اسٹیونسن کی کہانی ’’خودکشی کا کلب‘‘ پڑھی ہوگی۔ مولانا عبد المجید سالک نے اسی نام سے اس کا ترجمہ کیا تھا۔ اس کلب کے ممبر بننے والے اپنی جان سے بیزار بے شک ہوتے تھے لیکن اپنی جان آپ لیتے ڈرتے تھے۔

    خودکشی کے لیے ہمت چاہیے۔ اس کلب کا کام ان کی بے ضرر موت کا انتظام کرنا ہوتا تھا۔ اخبار میں آتا تھا کہ فلاں شخص کار کے نیچے آیا اور مرگیا۔ فلاں دریا میں ڈوبا پایا گیا، شاید مخموری میں پل سے گزر رہاتھا۔ پاؤں رپٹ گیا۔ کسی کے ساتھ کوئی اور حادثہ گزرا۔ لیکن اصل میں یہ سارے اس کلب کے کارنامے ہوتے تھے۔ خیر وہ تو ایک قصہ تھا۔ ہمیں معلوم نہیں خودکشی کے کلب سچ مچ ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے لیکن اسی طرح ایک کہانی سرآرتھر کانن ڈائل کی بھی ہے جس میں شرلاک ہومز صاحب اپنا کارنامہ دکھاتے ہیں۔ اس کا نام ہے ’’لال سر والوں کی انجمن۔‘‘ صرف سرخ بالوں والے اس کی خدمات سے متمتع ہوسکتے تھے۔ شرلاک ہومز کے تفتیش کرنے پر یہ سارا کارخانہ فراڈ ثابت ہوا۔ لیکن گنجوں کے کلب واقع ہیں۔

     

    ٹیگز: , , , , , , , , , ,

    

    تبصرہ کیجیے

    
    

    © 2017 ویب سائیٹ اور اس پر موجود سب تحریروں کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔بغیر اجازت کوئی تحریر یا اقتباس کہیں بھی شائع کرنا ممنوع ہے۔
    ان تحاریر کا کسی سیاست ، مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے. یہ سب ابنِ ریاض کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں۔
    لکھاری و کالم نگار ابن ِریاض -ڈیزائن | ایم جی

    سبسکرائب کریں

    ہر نئی پوسٹ کا ای میل کے ذریعے نوٹیفیکشن موصول کریں۔