پنچ لائن «
Ibneriaz Website Banner

  • ہم وی آئی پی ہیں || مہنگائی کے دن گنے جا چکے ہیں || بیمار کاحال اچھا ہے || روزمرہ مشورے || بھینس || ایک دعا || سوئی میں اونٹ کیسے ڈالاجائے || پاکستان کی حکومت اور کرکٹ ٹیم || ہونا ہے تمہیں خاک یہ سب خاک سمجھنا ||
  • پنچ لائن

    تحریر : ابنِ ریاض

    ہمارے پسندیدہ ابن انشاء ہیں اور انھی کی سادہ و آسان باتیں ہمیں سمجھ آتی ہیں۔ ہم نہیں کہتے کہ اشفاق احمد ، مفتی و دیگر نے معیاری نہیں لکھا یا ان کا معیار کسی طرح بھی کم تھا بلکہ حق یہ ہے کہ جو ذرہ جہان ہے وہیں آفتاب ہے۔   سکول و کالج میں اردو  کے مضمون میں  افسانے تھے۔ غلام عباس کا ‘کتبہ’، احمد ندیم قاسمی کا  ‘گھر سے گھر تک’   اور علامہ راشد الخیری کا  شاید ‘صنوبر کی کہانی ‘مگر یہ افسانے ہمیں ہماری استانی محترمہ نے سمجھائے تھے  اور ہر پیرے کی تشریح بھی کروائی تھی سو اردو کے نمبروں کی بنا پر  ہمیں نہ جانچا جائے۔

    یوں بھی نمبر ہمارے ہاں قابلیت سے زیادہ رٹے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں اور ہمارا شمار تو ان طالب علموں میں ہوتا تھا جو ریاضی  کے سوالوں کو بھی رٹ کر  امتحان میں جاتے تھے شاید اسی لئے قدرت نے ہمیں ‘ابنِ ریاض’  بنا دیا۔ ہماری اپنی نالائقی ہے کہ ہمیں افسانے سمجھ نہیں آتے ما سوائے ان کے جن کا اختتام ” ان  دونوں کی شادی ہو گئی اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے” والے جملے پر ہو۔حالانکہ شادی کے بعد نہ تو میاں بیوی خوش رہتے ہیں اور نہ ہی باقی سب۔ اگر اتفاق سے میاں بیوی خوش رہنا چاہیں تو باقی سب پوری کوشش کرتے ہیں کہ ایسے پاپ سے دونوں بچے رہیں۔ ظاہر ہے نئی نئی شادی ہے ابھی انھیں سمجھ کہاں کہ کیا اچھا ہے کیا برا ہے؟ یوں بھی نام افسانہ سے سمجھ لینا چاہیے کہ سب حقیقت تھوڑی ہے بس قارئین کا دل پشوری کرنا ہی مقصد ہے مصنف کا۔

    ہم نے چند افسانے پڑھے ہیں اور اتفاق سے وہ سب ہمارے اوپر سے گزر گئے ہیں۔ چند روز قبل  ابھرتی ہوئی افسانہ نگار  اور کئی انعامات حاصل کرنے والی مصنفہ  اریبہ بلوچ کا اک افسانہ پڑھا تو ہمیں کچھ سمجھ نہ آیا ۔ پڑھا اس لئے کہ افسانے کا عنوان ہی ایسا تھا کہ ہم رہ نہ سکے۔ "اب عمر کی نقدی ختم ہوئی” اگر افسانے کا نام ہو تو ابنِ انشاء کا مداح کیوں نہ پڑھے گا۔ پڑھ تو لیا ہم نے اور تعریف بھی کر دی لیکن جب اریبہ نے پوچھا کہ کیا سمجھ آیا تو ہم آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ اس سے شاعری اچھی ہوتی ہے کہ بندہ جو چاہے مطلب نکال لے عشقِ  مجازی کو عشقِ  حقیقی بنا دے تو  بھی شاعر کچھ نہیں کہتا بلکہ اتنے معانی و مفاہیم (جو خود شاعر کے دماغ میں بھی نہیں آئے تھے) بتانے پر خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ افسانہ نگار اتنا وسیع الظرف نہیں ہوتا یا شاید ہم جنھیں جانتے وہی لکیر کے فقیر ہیں۔ ہم نے افسانے کی بہت تعریف کی اور بتایا کہ مصنف یعنی مصنفہ دنیا کی بے ثباتی کو بہت ہی عمدہ انداز میں بیان کرنے میں کامیاب رہی ہے اور یہ اردو ادب میں شاندار اضافہ ہے لیکن اریبہ نے کہا  "کیا پورا افسانہ پڑھا ہے ؟ ہم نے کہا اک نہیں دو مرتبہ۔  اس پر کہا گیا کہ تشریح نہ کریں بلکہ بتائیں کہ سمجھ کیا آیا ہے ؟ یہ اردو اے کا پرچہ نہیں ہے”۔ واقعی وہ اردو اے کا پرچہ نہیں تھا بلکہ وائیوا تھا۔

    ہمیشہ کی طرح اس میں ہم امتیازی نمبروں میں فیل ہو گئے۔ ہمیں ایک موقع اور دیا گیا اور کہا گیا کہ ‘پنچ لائن’ پڑھیں۔ ہم نے کہا کہ وہ کیا ہوتی ہے ؟ کہا گیا کہ وہ فقرہ یا جملہ جس میں مصنف پورے افسانے کو قلابازی  کھلا کر  پڑھنے والے کو حیران و ششدر کر دیتا ہے۔ عموماً افسانے کی آخریں سطریں ہی ہوتی ہیں۔ ہم نے تیسری مرتبہ کھولا اور آخری سطریں دیکھیں۔ ” پتہ نہیں تم  انسان گاڑیاں   دھیان  سے   کیوں نہیں چلاتے ،؟حادثے صرف وہی نہیں ہوتے جنھیں تمھاری  آنکھ دیکھتی ہے۔”  یہ پنچ لائن پڑھ کر ہمارے تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ لفظ انسان پر ہم نے غور نہیں کیا۔  بس ان دیکھے حادثے کی بات  دماغ میں بیٹھ گئی۔  اب انجینئر بندے کو ان دیکھے حادثے کی کیا سمجھ آئے ؟ ضرور انفرا ریڈ  یا    ان دیکھے سپیکٹرم میں کوئی حادثہ ہوا ہے لیکن ڈرائیونگ دیکھ کر کرنے کا کیا مطلب ؟   شاید ڈرائیور اندھا ہو  یا  اس وقت کسی اور سمت اس کی نظر بھٹک رہی ہو ۔ کچھ پلے نہ پڑا۔جب دس منٹ تک ہمارا جواب  نہ آیا تو پوچھا گیا کہ خیریت ہے۔ پنچ لائن تو ایک منٹ میں پڑھی جاتی ہے۔

    ہم نے عرض کی کہ پڑھی تو ایک ہی منٹ میں ہے لیکن سمجھ دس منٹ بعد بھی نہیں آ رہی۔ اس پنچ لائن نے ہمیں ایسا پنچ مارا ہے کہ سارا جسم لہو لہان ہے اور اب تک ہم اٹھ نہیں پائے۔ دل میں کہا کہ پنچ لائن کو تو چھوڑو ہمیں تو افسانے کی ہر لائن نے ہی پنچ مارا تھا۔ اس آخری مکے کے بعد تو ہم  بے جان زمین پر پڑے ہیں اور دماغ کی چولیں ہل چکی ہیں۔

    ناراض ہوکر یا زچ  کر اریبہ نے ہمیں افسانے کے متعلق بتایا کہ یہ  افسانہ ایک ان دیکھی مخلوق کے  انتقام  کے متعلق ہے جس کا بیٹا  کردار کی  ڈرائیونگ  کی وجہ سے ہلاک  ہو گیا تھا ہمارا تو دھیان ہی نہیں گیا ان دیکھی مخلوق کی طرح۔ انجیئنر کا دھیان جاتا بھی ہے تو مالیکیولز یا الیکٹرو میگنیٹک لہروں کی طرف جاتا ہے۔ کیا کریں جو چیز دماغ و اعصاب پر چھائی ہوئی ہو اسی پر توجہ جاتی ہے۔

    سو دوستو آج ہمیں معلوم ہوا کہ افسانوں میں پنچ لائن ہوتی ہے۔ افسانہ پسندوں کے لئے پورے افسانے میں ایک ہوتی ہے،۔ ہم جیسوں کو ہر سطر ہی پنچ مار کے بے حال کیے جاتی ہے اور پنچ لائن کے بعد ہم  بے دم ہو جاتے ہیں۔ یہاں پر ہمیں پرویز مشرف کا ایک قول زریں یاد آ رہا ہے ” باکسنگ کے کھیل میں مکے تو پڑتے ہی ہیں لیکن جیتتا وہی ہے جو آخری مکا لگاتا ہے” سو یہ پنچ لائن دراصل وہ آخری مکا ہوتا ہے افسانے کا جو قارئین کو ہلا کے بلکہ گرا کے چاروں شانے چت کر کے رکھ دیتا ہے۔ اب اگر ہم سے کوئی افسانہ پڑھنے کا مطالبہ کرے تو اس سے ہم عرض کریں گے کہ پہلے پنچ لائن بتا دو تا کہ اس کے ارد گرد سے ہم احتیاط سے  گزریں ۔ باقی افسانہ ہم کسی نہ کسی طرح پڑھ لیں گے۔

     

     

    ٹیگز: , , , , ,

    

    تبصرہ کیجیے

    
    

    © 2017 ویب سائیٹ اور اس پر موجود سب تحریروں کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔بغیر اجازت کوئی تحریر یا اقتباس کہیں بھی شائع کرنا ممنوع ہے۔
    ان تحاریر کا کسی سیاست ، مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے. یہ سب ابنِ ریاض کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں۔
    لکھاری و کالم نگار ابن ِریاض -ڈیزائن | ایم جی

    سبسکرائب کریں

    ہر نئی پوسٹ کا ای میل کے ذریعے نوٹیفیکشن موصول کریں۔