اندھے کے ہاتھ بٹیر آ گیا «
Ibneriaz Website Banner

  • ہم وی آئی پی ہیں || مہنگائی کے دن گنے جا چکے ہیں || بیمار کاحال اچھا ہے || روزمرہ مشورے || بھینس || ایک دعا || سوئی میں اونٹ کیسے ڈالاجائے || پاکستان کی حکومت اور کرکٹ ٹیم || ہونا ہے تمہیں خاک یہ سب خاک سمجھنا ||
  • اندھے کے ہاتھ بٹیر آ گیا

    تحریر: ابنِ ریاض

    ہماری فیس بک کی آئی ڈی پچھلے تین ماہ سے ہمارےہی ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہی تھی۔ ابن ریاض والی آئی ڈی شاید کسی نے رپورٹ کی تھی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری آئی ڈی اپنے اصل نام پر واپس آ گئی۔ ہمارا افسردہ ہونا قدرتی تھا کہ یہ آئی ڈی ہم نے بنائی ہی اپنے قلمی مشاغل کے لئے تھی۔

     اپنے حقیقی نام سے ہماری دو آئی ڈیز پہلے ہی تھیں۔ ان میں ایک میں اپنے ہم پیشہ افراد و اپنے طلباء جمع کر رکھے تھے تو دوسری میں ہمارے گھر والے اور دوست احباب تھے۔ ان کو ہماری اس لکھنے والی عادت کا پتہ تھا اور نہ ہی ہمارے مطابق ان کو اس سے کوئی سروکار تھا۔ اس لئے اپنی تحاریر ہم ان آئی ڈیز پر نہیں لگاتے اور پچھلے پانچ برس سے ہم اپنے قلمی نام یعنی ابنِ ریاض سے لکھ رہے ہیں تو ان آئی ڈیز پر اپنی تحاریر لگانے کے بعد ان کی وضاحت بھی کرنی پڑتی اور ان کاموں سے ہم دور بھاگتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اس کی تشہیر نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ کلاس میں ہم صرف استاد کے طور پر جانا ہی پسند کرتے ہیں۔

    ایسے میں ایک روز ہمیں خیال آیا کہ کیوں نہ ہم اپنے قلمی نام سے ایک آئی ڈی بنائیں اور اپنی تحریریں وہاں لگائیں۔ یوں ابن ریاض والی آئی ڈی بن گئی۔ اور ڈیڑھ سال لگا تب لوگوں کو کچھ علم ہوا کہ ابن ریاض بھی ہیں کوئی۔ جب ابن ریاض کی کچھ پہچان بنی تو آئی ڈی رپورٹ ہو گئی

    اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

    ۔ یوں ہم دوبارہ اپنے اصل نام پر آ گئے۔ ہمیں اپنا ہی نام عجیب عجیب محسوس ہو رہا تھا۔ مزید براں ہماری ہی آئی ڈی میں ہمارے احباب ایک ایک کر کے پوچھیں کہ یہ کون صاحب ہماری فہرستِ احباب میں آ بیٹھے۔ ہم تو جل بھن ہی بیٹھے۔ بہت کوشش و تگ و دو کے بعد اپنا نک اس آئی ڈی پر لگایا اور ایک پوسٹ  میں سب کو بتایا کہ دو ماہ اس نام کو برداشت کریں۔ موقع ملتے ہی ہم اس کو اپنے قلمی نام سے تبدیل کر دیں گے۔ یہ آئی ڈی ہم چھوڑنا بھی نہیں چاہتے تھے کہ اس سے ہماری دلی وابستگی بھی تھی اور اپنے احباب کو ہم کیسے دوبارہ نئی آئی ڈی میں ڈالتے۔

    ہم بوجھل دل کے ساتھ دن گزارنے لگے اور جب بھی یہ احساس دامن گیر ہوتا کہ ہماری آئی ڈی ہم سے چھین لی گئی ہے، ہم اس کی سیٹنگ میں جا کر نام تبدیل کرنے کی کوشش کرتے اور منہ کی کھاتے۔ تبدیل کرنے سے پہلے ہی لکھا ہوتا کہ دو ماہ تک آپ اس نام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتے۔

    خدا خدا کر کے دو ماہ گزارے۔ اکسٹھویں دن نام تبدیل کرنے گئے تو پھر ہمارے ارمانوں پر اوس پڑنے کو تیار تھی۔ جوں ہی نام تبدیل کرنا چاہا، لکھا ہوا پایا کہ آپ پہلے ہی بہت بار نام بدل چکے ہیں۔ اب مزید نام بدلنے سے باز آ جائیں۔ ہم حیران و پریشان دیکھیں کہ کب ہم نے نام بدلا۔ ہم تو اپنی آئی ڈی والی تصویر بھی نہیں بدلتے کجا کہ نام بدلا جائے۔ کچھ دن مزید ہم اس آس میں بیٹھے کہ شاید یہ فیس بک کی کوئی غلطی(ایرر) ہے جو چند روز میں درست ہو جائے گی۔ ہم نے اپنا نام اردو میں بھی لکھنے کی کوشش کی مگر جواب آ جاتا کہ آپ کی درخواست سسٹم نے منظور نہیں کی۔ ہم سسٹم  کی جیب گرم کرنے کو بھی تیار تھے مگر افسوس کہ ہمیں اس کا طریقہ نہیں آتا۔ مگر وائے نادانی، اتنے دن بعد یہ عقدہ کھلا

    خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ، جو سنا افسانہ تھا

    تنگ آ کر ہم نےنئی آئی ڈی بنانے کا سوچا کہ جو بالکل اصلی ہو۔ اس کے لئے ہم نے سوچا کہ ای میل ہی ہم ابن ریاض کے نام سے بناتے ہیں۔  تا کہ اگر کسی نے رپورٹ کی بھی تو ہماری آئی ڈی حقیقی ہی نکلے گی اور دشمن منہ کی کھائے گا۔ ابن ریاض کے نام کی آئی ڈی جی میل پر با آسانی بن گئی اور گوگل نے کوئی اعتراض نہیں کیا مگر فیس بک پر جب ابن ریاض کے نام  سے  کھاتا بنانا چاہا تو وہ کہے کہ فیس بک پر کھاتے اپنے حقیقی نام سے ہی بنائیں اور ابن ریاض کو تسلیم نہ کیا۔ ہم نے مزید گوگل پر ایک آئی ڈی ابن ریاض کے نام سے بنائی اور پھر ایک کوشش کی مگر فیس بک نے ہمارے ساتھ وہی کیا جو ایک دکاندار سردار کے ساتھ کرتا تھا۔ ایک سردار کو ایک دکان میں ایک الماری پسند آئی۔ اس نے دوکاندار سے پوچھا کہ یہ الماری کتنے کی ہے؟ دوکاندار نے کہا  کہ ہم سرداروں کو کچھ نہیں بیچتے۔ وہ اداس ہو کے واپس گیا۔ اگلے دن پھر اس امید کے ساتھ  گیا کہ اب کے شاید رویے میں تبدیلی آئے کچھ دوکاندار کے۔ الماری کا پوچھا تو پھر دوکاندار نے کہا کہ ہم سردارون کو کچھ نہیں بیچتے۔

    اسے انتہائی خفت محسوس ہوئی اور اس کے ارادہ کیا کہ اب کے تو وہ یہ الماری لے کے ہی چھوڑے گا۔ اب کے اس نے انگریزوں والا حلیہ بنایا اور چند روز انگریزی لہجے کی مشق کی۔ اس بار اسے یقین تھا کہ اب وہ اپنا مطلوبہ سامان  لے ہی آئے گا۔ وہ اب نئے حلیے میں دوکان گیا اور کہا کہ مجھے وہ الماری دے دو۔ دوکاندار نے کہا کہ جناب ہم سرداروں کو کچھ نہیں بیچتے۔ وہ حیران و پریشان رہ گیا۔اس نے کہا کہ ٹھیک ہے بھائی میں نہیں خریدتا۔ تم بس مجھے یہ بتا دو کہ آخر تم کو میرا  پتہ کیسے چل جاتا ہے۔ دوکاندار نے کہا کہ یہ جسے تم الماری کہہ رہے ہو یہ فریج ہے۔ ہم بھی فیس بک والوں سے کہتے ہیں کہ ہم نہیں ابن ریاض کے نام سے آئی ڈی بناتے بس ہمیں اتنا بتا دو کہ ہمارا کیسے پتہ چل جاتا ہے تم لوگوں کو۔

    بارے ہم نے یہ کام اپنے  ایک قریبی عزیز  کو کہا۔ انھوں نے آئی ڈی بنائی تو دس منٹ بھی نہیں لگے اور بن گئی۔ گویا اس کو مسئلہ ہماری معصوم سی ذات سے ہی تھا۔ ہمیں تو آئی ڈی سے مطلب تھا سو خوش ہو گئے اور بنانے والے کی کیا بات کہیں۔ اس نے اپنی آئی ڈی میں موجود تمام احباب کو بھی دوستی کی درخواست بھیج دی۔ اس کا ہمیں تو بہت ہی فائدہ ہوا کہ سبھی قابل ذکر مصنفین و شاعرات نے ہماری پیشکش قبول کر لی اور تین ہی دن میں ہمارے دوستوں کی تعداد سینکڑے کے قریب پہنچ گئی۔ یعنی کہ اندھے کے ہاتھ میں بٹیر  گیا اور ہم نے بھی اس کی مانند خود کو شکاری سمجھ لیا۔ پرانی آئی ڈی سے یہ رفتار کہیں زیادہ ہے۔ اس کا سہرا یقینًا یہ آئی ڈی بنانے والے کے سر ہے۔ ہمیں جو دکھ اس آئی ڈی سے ناتا توڑنے کا ہو رہا تھا وہ تو اب ختم ہی سمجھیے۔ چونکہ انسان اپنی کمپنی (آف شور نہیں) یعنی کہ صحبت سے پہچانا جاتا ہے تو ہمارے لئے یہ یقینًا باعث افتخار ہے کہ ہماری آئی ڈی میں ایسے محترم و قابل لوگ موجود ہیں۔ تاہم اپنے تمام بہی خواہوں کو ہماری یہ نصیحت کہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم بھی آپ کی آئی ڈی میں ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ حاسدین آپ سے بدگمان ہوں۔

    ٹیگز: , ,

    

    تبصرہ کیجیے

    
    

    © 2017 ویب سائیٹ اور اس پر موجود سب تحریروں کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔بغیر اجازت کوئی تحریر یا اقتباس کہیں بھی شائع کرنا ممنوع ہے۔
    ان تحاریر کا کسی سیاست ، مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے. یہ سب ابنِ ریاض کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں۔
    لکھاری و کالم نگار ابن ِریاض -ڈیزائن | ایم جی

    سبسکرائب کریں

    ہر نئی پوسٹ کا ای میل کے ذریعے نوٹیفیکشن موصول کریں۔